اس سال کے آخر تک اندھیرے چھٹ جائینگے،بجلی فالتوہوگی : محمد شہبازشریف .ا یف این این آئی

وزیراعلیٰ نے ای روزگارٹریننگ پروگرام کا افتتاح کردیا، 40ای روزگار سینٹرز قائم،نوجوانوں کو3ماہ تربیت دی جائے گی
نوجوانوں کو زیادہ بااختیار بنا کر ملک و قوم کی تقدیر بدلیں گے:شہبازشریف، ای روزگار سینٹرز کی تعداد بڑھانے کا اعلان
بھکی گیس پاور پلانٹ سے آئندہ دو ہفتے میں 800میگاواٹ بجلی حاصل ہوگی
تعلیم یافتہ نوجوان پاکستان کا بڑا چیلنج ہے، اسے ہم نے مواقع میں بدلنا ہے،یہی ترقی کی شاہراہ اور ملک کی تقدیر بدلنے کا طریقہ ہے
نوجوانوں کو بااختیار بنانے کیلئے ’’خادم پنجاب خود روزگار سکیم‘‘ اور ’’ای روزگارٹریننگ پروگرام‘‘ شروع کر رکھے ہیں
ای روزگار پروگرام کے تحت 36 اضلاع میں 40 سینٹرز قائم کئے گئے ہیں، ہمیں صوبے میں ایسے 40 لاکھ سینٹرز بنانا ہوں گے
’’خادم پنجاب خود روزگار سکیم‘‘ کے تحت بلاسود قرضوں کے حصول سے 9 لاکھ بچے اور بچیاں اپنے پاؤں پر کھڑے ہوچکے ہیں
پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ کے تحت وظائف حاصل کرنے والے طلباء و طالبات کی تعداد ایک لاکھ 75 ہزار ہوچکی ہے
2013 میں ہماری حکومت آئی تو ملک اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا، لوڈشیڈنگ کی اذیت سے لوگ ذہنی مریض بن رہے تھے
اگر بھارت کو بجلی کی ضرورت ہوئی تو پاکستان فالتو بجلی اسے مہیا کرسکے گا، تاریخ کے شفاف ترین اورتیزترین منصوبے لگ رہے ہیں
وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف کاای روزگارٹریننگ پروگرام کی افتتاحی تقریب اور پہلے نیشنل فری لانسنگ کنونشن سے خطاب

لاہور( ا یف این این آئی )وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے آج ارفع کریم سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک میں ای روزگارٹریننگ پروگرام کا افتتاح کیا،جس کے تحت صوبے کے36اضلاع میں 40ای روزگار سینٹرز بنائے گئے ہیں جہاں پرنوجوانوں کو3ماہ تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ وہ اپنا آن لائن جاب کے ذریعے باعزت کماسکیں۔وزیراعلیٰ نے ای روزگار سینٹرز کی تعداد مزید بڑھانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ای روزگارٹریننگ پروگرام کے تحت صوبے کے 36 اضلاع میں 40 سینٹرز قائم کر دیئے گئے ہیں ۔ میں سمجھتا ہوں کہ 40 سینٹرز بہت کم ہیں، ہمیں صوبے میں ایسے 40 لاکھ سینٹرز بنانا ہوں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو بااختیار بنایا جاسکے۔وزیراعلیٰ نے ای روزگارٹریننگ پروگرام کی افتتاحی تقریب اور پہلے نیشنل فری لانسنگ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی بڑی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ نوجوان ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں جنہیں بااختیار بنا کر ملک و قوم کی تقدیر بدلیں گے۔ پنجاب حکومت نے نوجوانوں کی ترقی اور انہیں بااختیار بنانے کے حوالے سے متعدد پروگرام شروع کر رکھے ہیں۔ ہر سال یونیورسٹیوں سے لاکھوں کی تعداد میں گریجوایٹس آ رہے ہیں اور تعلیم یافتہ نوجوان پاکستان کا بڑا چیلنج ہے اور اسے ہم نے مواقع میں بدلنا ہے۔ قوم کی بیٹیاں اور بیٹے جہاں انفارمیشن ٹیکنالوجی سے آراستہ ہو کر ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں، وہاں اپنے خاندانوں کا بوجھ بھی بانٹ رہے ہیں۔ یہی ترقی کی شاہراہ ہے اور پاکستان کو خوشحال ملک بنانے اور اس کی تقدیر بدلنے کا یہی طریقہ ہے۔ اس مقصد کیلئے وسائل اور ماحول کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے اور پنجاب حکومت نے اس حوالے سے بے مثال اقدامات کئے ہیں۔ ’’خادم پنجاب خود روزگار سکیم‘‘ اور ’’ای روزگارٹریننگ پروگرام‘‘ اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے حوالے سے آج ایک منفرد محفل منعقد کی گئی ہے۔ 3 سال قبل وائس چانسلر انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی ڈاکٹر عمر سیف نے ای روزگار سکیم کے پروگرام کی داغ بیل ڈالی تھی اور آج اس پروگرام کے تحت ہزاروں نوجوان انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تربیت حاصل کرکے اپنا روزگار کما رہے ہیں۔ میں اس شاندار پروگرام کے اجراء پر ڈاکٹر عمرسیف اور اس کی پوری ٹیم کو مبارکباد دیتا ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایسا پروگرام وقت کی اہم ترین ضرورت تھی اور ایسے پروگراموں سے ہی پاکستان آگے بڑھ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے 2008 میں پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ کی بنیاد 2 ارب روپے سے رکھی اور آج اس کا حجم بڑھ کر 20 ارب روپے ہو چکا ہے۔ اس کی آمدن سے قوم کے لاکھوں بچے اور بچیاں تعلیمی وظائف حاصل کر رہے ہیں۔ اس تعلیمی فنڈ سے وظائف حاصل کرنے والے مالی مشکلات سے دوچار طلبا و طالبات کی تعداد ایک لاکھ 75 ہزار ہوچکی ہے جن میں ایک لاکھ 20 ہزار طالبات شامل ہیں۔ اس تعلیمی فنڈ سے تعلیم حاصل کرکے ہزاروں ڈاکٹرز اور انجینئرز بن چکے
(بقیہ ہینڈ آؤٹ نمبر656) (2)
ہیں اور ہزاروں طلبا و طالبات ملکی و غیرملکی تعلیمی اداروں میں اپنی تعلیمی پیاس بجھا رہے ہیں۔ اسی طرح سکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت فنی تربیت کے اداروں سے ہزاروں بچوں کو ہنرمند بھی بنایا جا چکا ہے۔ اس کے ساتھ مانیٹرنگ کا ایسا موثر میکانزم بھی ہونا چاہیئے جس سے پتہ چل سکے کہ تعلیم حاصل کرنے والے بچے اور بچیوں کی کھپت کہاں ہو رہی ہے۔ کیا انہیں روزگار کے مواقع بھی مل رہے ہیں کہ نہیں؟ یہ بھی ایک چیلنج ہے اور میں اس حوالے سے ڈاکٹر عمر سیف سے کہتا ہوں کہ وہ جامع میکانزم بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان اور پنجاب کو ترقی کرنا ہے تو اپنے نوجوانوں کو ترقی کا انجن بنانا ہوگا۔ نوجوانوں کو بااختیار بنائے بغیر ترقی و خوشحالی کا سفر طے نہیں کرسکتے، اسی مقصد کے پیش نظر پنجاب حکومت نے نوجوانوں کیلئے بے مثال پروگرام شروع کر رکھے ہیں۔ ’’خادم پنجاب خود روزگار سکیم‘‘ کے تحت نوجوانوں کو اپنے روزگار کیلئے بلاسود قرضے دیئے جا رہے ہیں اور ان قرضوں کے حصول سے 9 لاکھ بچے اور بچیاں اپنے پاؤں پر کھڑے ہوچکے ہیں۔ اسی طرح ای روزگارٹریننگ پروگرام بھی نہایت اہمیت کی حامل ہے اور اس سکیم کے تحت بنائے گئے 40 تربیتی سینٹرز کم ہیں اس لئے 40 لاکھ ای روزگارٹریننگ سینٹرز کے قیام کیلئے منصوبہ بندی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی سرگرمیاں اور دیگر پروگراموں کو آگے بڑھانے کیلئے توانائی ضرورت ہے۔ جب 2013 میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت آئی تو ملک اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا، لوگوں کا کاروبار اور روزگار ختم ہو رہا تھا، لوڈشیڈنگ کی اذیت سے لوگ ذہنی مریض بن رہے تھے۔ موجودہ حکومت کی شبانہ روز کی محنت رنگ لا رہی ہے، انشاء اللہ اس سال کے آخر میں یا اگلے سال کے شروع میں ملک سے بجلی نہ ہونے کی بنا پراندھیرے چھٹ جائیں گے۔ پاکستان روشن ہوگا، ملک میں صنعت، زراعت، لائیوسٹاک، ای روزگار جیسے پروگراموں کیلئے وافر بجلی دستیاب ہوگی اور پاکستان بجلی کے معاملے میں نہ صرف خودکفیل ہوگا اوراگر بھارت کو بجلی کی ضرورت ہوئی تو پاکستان فالتو بجلی اسے مہیا کرسکے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں وزیراعظم محمد نوازشریف کی قیادت میں موجودہ حکومت نے جس شفافیت کے ساتھ منصوبے لگائے ہیں ماضی میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی اوریہ منصوبے اب تکمیل کی جانب بڑھ رہے ہیں۔1200میگاواٹ کا بھکی کاگیس پاور پلانٹ کا پہلا مرحلہ آئندہ دو ہفتے میں مکمل ہوجائے گا جس سے 800میگاواٹ بجلی حاصل ہوگی ۔پاکستان کی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ منصوبوں کو شفافیت ،رفتار ،انتھک محنت اوراعلی معیار کے ساتھ مکمل کیا جارہاہوں ۔انشاء اللہ پاکستان ایک عظیم ملک بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے منصوبے شفافیت، معیار، انتھک کاوشوں اور برق رفتاری سے تکمیل کے حوالے سے اہم سنگ میل ہیں اوران منصوبوں کی تکمیل سے پاکستان کا قریہ قریہ روشن ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو میں کوئی سہانے خواب نہیں دکھانا چاہتا لیکن نوجوان میرے دل کے قریب ہیں اورمیں نے نوجوانوں کی ہر طریقے سے خدمت کی ہے اور2018ء عام انتخابات میں نوجوان یقیناًخدمت ،محنت اوردیانت کا ساتھ دیں گے۔مشیر ڈاکٹر عمر سیف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی 60 فیصد آبادی نوجوانو ں پر مشتمل ہے جو پاکستان کے تابناک مستقبل کی نوید ہے۔انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیوں سے ہر سال ڈگریاں لے کر نکلنے والے لاکھوں گریجوایٹس کو روزگار کی فراہمی ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے تاہم پنجاب کے وزیراعلیٰ شہبازشریف کے ویژن کے مطابق ای روزگار پروگرام شروع کیا گیا ہے جو نوجوانوں کو اپنا روزگار کمانے کے مواقع فراہم کر رہا ہے۔ صوبائی وزراء سید رضا علی گیلانی اور جہانگیر خانزادہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ای روزگارٹریننگ پروگرام کی اہمیت اور افادیت کو اجاگر کیا جبکہ ای روزگارٹریننگ پروگرام کے تحت روزگار حاصل کرنے والے نوجوان مزمل عارف نے اپنی داستان سناتے ہوئے ای روزگار پروگرام کی اہمیت بیان کی۔ تقریب کے اختتام پر مشیر و چیئرمین پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ ڈاکٹر عمر سیف نے وزیراعلیٰ کو یادگاری شیلڈ دی۔ صوبائی وزراء، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی، وائس چانسلرز، آئی ٹی ماہرین اور طلبا و طالبات کی بڑی تعداد تقریب میں موجود تھی۔

2 تبصرے “اس سال کے آخر تک اندھیرے چھٹ جائینگے،بجلی فالتوہوگی : محمد شہبازشریف .ا یف این این آئی

  1. Existe una segunda tecnología de huella digital que es con un sensor capacitivo” el que obtiene una copia del relieve de
    su huella digital basada en la diferencia eléctrica
    causada por el relieve de sus huellas digitales.

اپنا تبصرہ بھیجیں