پنجاب حکومت سکالرشپ پروگرام ۔ ایف این این آئی

تعلیم, ملک و قوم

پنجاب حکومت سکالرشپ پروگرام ۔ ایف این این آئی

تحریر: صدف
تعلیم ہر انسان چاہئے وہ امیر ہو یا غریب ،مرد ہو یا عورت کا بنیادی حق ہے تعلیم کی بدولت انسان اور حیوان میں فرق نظر آتا ہے یہ کسی بھی معاشرے یا قوم کے لیے ترقی کی ضمانت ہے تعلیم ہی قوم کی ترقی اور زوال کا سبب بنتی ہے انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ بھی تعلیم ہی کی بدولت دیا گیا ہے دنیا کے تمام مذاہب میں تعلیم کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے جبکہ اسلام میں تعلیم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔اللہ تعالی نے یہ کائنات بھی اسی لیے بنائی کہ انسان اپنے علم کی ہی بدولت اس کائنات کے پوشیدہ راز جان سکے۔اگر آج ہم مغرب کی ترقی کا راز دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ تعلیم ہی وہ واحد راستہ ہے جس کی بدولت آج مغرب نے دنیا کو فتح کیا۔ دنیا کے وہ ملک جن کی معیشت تباہ ہو چکی ہے جو دنیا کی بڑی طاقتوں پر انحصارکرتے ہیں ان کا ڈیفنس بجٹ تو اربوں روپے کا ہے پر تعلیم بجٹ نہ ہونے کے برابر ہے جہاں غریب عوام کے لیے تعلیم حاصل کرنا ناممکن ہے کیونکہ تعلیم ان کی پہنچ میں نہیں اور کیا ایسا ملک جہاں 50فیصد سے زیادہ آبادی ان پڑھ ہو پر اس کے پاس جدید سے جدید ہتھیار ہوں تو کیا وہ ترقی کرسکتا ہے جب تک یہ ملک تعلیم کی ا ہمیت کو نہیں سمجھیں گے و ہ ترقی نہیں کرسکتے یہ حکومت اور حکمرانوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے لوگوں کے لیے ایسے مواقع فراہم کریں جہاں امیر لوگوں کے ساتھ ساتھ غریب اور مستحق افراد بھی تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو سکیں۔تعلیم کی اہمیت جانے بغیر انسان ہمیشہ پستی میں رہے گا۔بے شک جہالت خدا کی لعنت ہے اسی لیے تعلیم کے لیے پنجاب ایجوکیشن نڈومنٹ فند(PEEF) مختص کیا ہے تاکہ غریب اور مستحق ہونہار طلبہ معاشرے اور ملک و قوم میں ترقی میں اپنا فعال کردار ادا کرسکیں۔ پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ )ُؑ ؑ ٖPEEF ) کاقیام وزیراعلی پنجاب جناب محمد شہباز شریف کی ذاتی کاوش اور دلچسپی کا نتیجہ ہے اس ادارے کو ایک خود مختار ادارے کی حیثیت سے کمشنر آرڈ نینس 1984کے سیکشن کے تحت سیکورٹیز اینڈ ا ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے ساتھ رجسٹرکیا گیا ہے۔
اس ادارے کے قیام کا مقصد پنجاب اور دیگر صوبوں و علاقہ جات کے ہونہار اور مستحق طلباء و طالبات کو اعلی تعلیم کے لیے مساوی مواقع اور بہترین ادارواں میں تعلیمی سہولیات بہم پہنچانا ہے تاکہ ان ہونہار ومستحق طلباء و طالبات کے والدین نے جو خواب دیکھے ہیں وہ پورے ہوسکیں اور وہ ملک و قوم کو ترقی و خوشحالی میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔ اس اہم مقصد کے لیے 2009 میں ایک ارب روپے کی مالیت سے انڈومنٹ فنڈ قائم کیا گیا جس میں بتدریج اضافہ کر کے اب اس انڈومنٹ فنڈ کی رقم کو17 ارب روپے کریا گیا ہے اب تک گورنمنٹ اور پرائیوٹ رجسٹرڈ و الحاق شدہ سکولوں اور کالجز سے مڈل،میڑک،انٹرمیڈیٹ اور گریجویشن کے سالانہ امتخانات میں بہترین کارکردگی دکھانے والے150,000سے زائد طلباء و طالبات کو سکالر شپ دئیے جاچکے ہیں۔یہ سکالر شپ مستحق بچوں اور بچیوں میں تقسم کیے جاتے ہیں۔ وہ طلباء وطالبات جن کے والد وفات پاچکے ہیں۔گریڈ1تا 4 کے سرکاری ملازمین کے بچے اقلیتی مذاہب سے تعلق رکھنے والے اور معذور طلباء طالبات اس سکالرشپ سے مستفید ہو سکیں گے۔
اس کے علاوہ دیگر صوبوں و علاقہ جات اور( PBTE)کے لیے سکالرشپ کا کوٹہ بھی مختص کیا گیاسندھ، بلوجستان،خیبر پختونخواہ،آزاد کشمیر،فاٹا ،اسلام آباد کیپٹل ٹرٹیری اور گلگت بلستان اور (PBTE )کے طلباء طالبات کیلئے بھی سکالر شپ کا خصوصی کوٹہ مختص کیا گیاہے۔ ماسٹر لیول ڈگری کے حصول کے لیے صوبہ پنجاب کی تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کے لیے بھی سکالر شپ کا کوٹہ مختص کیا گیا ہے جس سے بہت سے طلباء و طالبات اعلی تعلیم کو جاری رکھ سکیں گے۔ حکومت کی جانب سے غریب اور مستحق بچوں او بچیوں کے لیے اعلی تعلیم کا حصول اب اور آسان اور یقینی بنادیا ہے۔سکالر شپ مستحق طلباء طالبات تک پہنچانے کے لیے خصوصی قواعدو ضوابط بھی بنائے گے ہیں تاکہ تمام مستحق طلباء طالبات اس سہولت سے مستفید ہوسکیں۔سکالرشپ ایورڈ کے لیے لڑکے اور لڑکیوں کے لیے ضلع،تحصیل اور کیٹگری (سائنس،آرٹس وغیرہ)کی بنیاد پر علیحدہ علیحدہ میرٹ تربیت دیاگیا ہے تاکہ تعلیمی مواقع والے علاقے بھی اس پروگرام سے مستفید ہوسکیں۔ سکالر شپ اقامتی اور غیر اقا متی ہر دو طرح کے طلباء و طالبات کو دےئے جاتے ہیں۔ میٹرک (سائنس و آرٹس) کے غیر اقامتی طالب علم کے لیے قریباً800روپے ماہانہ وظیفہ مختص کیا گیا ہے جبکہ اقامتی طالب علم کے لیے تقریباً1500روپے ماہانہ اس طرح انٹرمیڈیٹ کے طلباء کے لیے 1500روپے غیر اقامتی طالب علموں اور 3000روپے اقامی طالب علموں کے لیے اسی طرح گریجویٹ پرگرامز کے غیر اقامتی طلباء کے لیے 2500 ،300 اور اقامتی طالب علموں کے لیے 4000اور 4500روپے کا ماہانہ وظیفہ مقرر کیا گیا ہے اس کے علاوہ اعلی تعلیم کے خواہش مند مستحق بچوں کے لیے ماسٹر لیول پروگرامز میں 100فیصد ٹیوشن فیس کی ادائیکی و ماہانہ سکالر شپ الاونس فراہم کئیے جاتے ہیں جبکہ اقامتی طالب علموں کو 5000 روپے ماہانہ اور غیر اقامتی علموں کو 3000روپے ماہانہ مقرر کیا جاتا ہے۔
ہر سال اس سکالر شپ سے بہت سے غریب طلباء و طالبات جو مالی وسائل نہ ہونے کی وجہ سے اپنی تعلیم جاری نہیں رکھ سکتے تھے اب اس پروگرام سے مستفید ہورہے ہیں مالی سال 2016-17کے دوران آٹھویں کلاس تک کے طلبہ کو 8,270)), میٹرک کے 12,404ا نٹرمیڈیٹ ,12,404گریجویشن 8,294،پنجاب بورڈ آف ٹیکنکل ایجوکیشن468، دیگر صوبہ جات،سنٹرز آف اسیکن کے (DFID) 1,325سکالر شپ برائے نٹرمیڈیٹ 7,250 اور شہباز شریف میڑٹ سکالر شپ پروگرام 1,033جن کی کل تعداد 52,283 ہے۔قیام پاکستان سے اب تک تعلیم جیسے اہم شعبے پر وہ توجہ نہیں جو اس کا حق ہے تاہم وزیر اعلی پنجاب نے ادراک کیا اور تعلیم کے لیے زیادہ سے زیادہ فنڈ ز محض کئے اور آئندہ آنے والے وقت کے ساتھ ساتھ توقع کی جاتی ہے کہ اس پروگرام کو مزید بڑھایا جائے گا تاکہ اس سے مزید اور بچے اور بچیاں مستفید ہو سکیں گے اور ملک و قوم کے لیے کا آمد ثابت ہونگے، مزید موثر انداز میں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاسکیں گے۔

Leave a Reply