50

توانائی بحران پر قابو پانے کیلئے حکومت پنجاب کے بے مثال منصوبے۔ ایف این این آئی

بہاولپور میں دنیا کا سب سے بڑا سولر پاور پراجیکٹ زیر تکمیل ہے
قوم کو درپیش 4500 میگا واٹ شارٹ فال کے مقابل حکومت پنجاب تین گنازائد کے منصوبوں پر تیزی سے کام کر رہی ہے
پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر میں تھر مل ، سولر اور ہائیڈل کے کم و بیش 39 منصوبے زیر عمل ہیں جن سے کل 6289.77 میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی
سی پیک منصوبے کے تحت بجلی کی پیداوار پر 33 بلین ڈالر کی خطیر رقم کی سرمایہ کاری ہو رہی ہے ،
سی پیک مارچ 2018 ء تک 10400 میگا واٹ کی پیداوار شروع ہو جائیگی ،

تحریر؛ ٹی ایم جان
ہمارے پیارے ملک پاکستان کو قدرت کاملہ نے جتنی فیاضیوں سے نوازا ہے وہ انتہائی قابل رشک ہیں مگر بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی جلد رحلت نے انہیں ان فیاضوں کو قوم کی تعمیر و ترقی میں ڈھالنے کی مہلت نہ دی اور تب سے اب تک بے پناہ وسائل ہماری ترقی و خوشحالی کے منصوبوں میں نہیں ڈھل سکے . اس وقت ملک میں بجلی پیداکرنے کی کل موجودہ صلاحیت 24,830 میگا واٹ ہے جس میں سے حاصل ہونے والی پیداوار کم ہے جبکہ ہماری ضرورت 30,000 میگا واٹ سے تجاوز کر رہی ہے اور یوں ہمیں کم و بیش 5000 اور 6000 میگا واٹ کے درمیان شارٹ فال کا سامنا ہے جس میں سالانہ 6 فیصد اضافہ ہو رہا ہے جبکہ آبادی میں تیز رفتار اضافے کے باعث آئیندہ ماہ و سال میں یہ مزید بڑھ جائیگا . یہ صورتحال ماضی سے ہمارا پیچھا کر رہی ہے اور ترقی کے اس جدید دور میں پاکستان کے عوام کو لوڈ شیڈنگ جیسے عذاب کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے ہر شعبہ زندگی بری طرح متاثر ہو تا ہے . جہاں ایک جانب گھریلو صارفین کو شدید مشکلات اور اذیت ناک صورتحال سے گزرنا پڑتا ہے وہیں ہمارے کھیتوں کھلیانوں ، کارخانوں اور کاروباری مراکز میں بھی بجلی کی کمی اپنا اثر دکھا رہی ہے اور ان شعبوں میں ہماری پیداوار اس صلاحیت سے بہت پیچھے ہے جس کے یہ شعبے حامل ہیں . آج کے دور میں بجلی جیسی بنیادی ضرورت کی قدر و قیمت اور اہمیت سے انکار کسی طور پر ممکن نہیں .
پاکستا ن مسلم لیگ ن کی حکومت نے عنان اقتدار سنبھالنے کے بعد جہاں دیگر شعبوں پر توجہ دی وہیں توانائی کے بحران کو ختم کرنے کو بھی اپنی ترجیحات میں رکھا . وفاق کی سطح پر بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر جو کام ہو رہا ہے ان پر تکیہ کئے بناء خادم اعلی پنجاب نے اپنے صوبے کے وسائل کو بروئے کار لانے کی ٹھانی اور ملک کی تاریخ میں رہتی دنیا تک یاد رکھے جانے والے بے مثال منصوبے شروع کئے . حکومت پنجاب نے اپنے وسائل سے بجلی پیدا کرنے کے جو منصوبے شروع کئے ہیں ان کی تکمیل پر اتنی بجلی پیدا ہوگی جو کل قومی شارٹ فال سے بھی تین سے چار گنا زائد ہوگی . ان منصوبوں میں دنیا کا سب سے بڑا سولر پاور پراجیکٹ بھی شامل ہے جو خادم اعلی پنجاب میاں محمد شہباز شریف کی رات دن کی محنت شاقہ کا نتیجہ ہے . یہ منصوبہ ہمارے عظیم ہمسائے چین کی زونرجی کمپنی کے تعاون سے بہاولپور میں لگایا جا رہا ہے جو 6500 ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے . اس منصوبے سے ایک ہزار میگا واٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہو کر شارٹ فال کو کم کرنے میں مدد دے گی . اس منصوبے کو شروع کرنے کیلئے محمد شہباز شریف نے جو محنت کی وہ ہماری تاریخ کا حصہ بن چکی ہے جس کا پھل عنقریب ہماری محرومیوں کو دور کر دے گا . اسی طرح پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر میں تھر مل ، سولر اور ہائیڈل کے کم و بیش 39 منصوبے زیر عمل ہیں جن سے کل 6289.77 میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی . دن کے اوقات میں پنجاب کے سکولوں کو ان کی بجلی کی ضرورت سے بہرہ مند کرنے کیلئے صوبے میں 20,000 سکولوں کو سولر سسٹم دیا گیا ہے جبکہ اپنی ضرورت کی بجلی خود پیدا کرنے کیلئے عوام الناس کو رغبت دلانے کی غرض سے وزیر اعلی پنجاب نے سکولوں اور کالجوں کے طلبہ میں سولر پینلز بھی تقسیم کئے ہیں .
سی پیک ایک ایسا منصوبہ تھا جس کا خواب بہت پہلے سے دیکھا گیا مگر اس پر عمل درآمد کرنے کا اعزاز بھی مسلم لیگ ن کی موجودہ حکومت کو حاصل ہوا ہے . اس منصوبے کو شروع کروانے میں پنجاب کے وزیر اعلی محمد شہباز شریف کی کاوشیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں . انہو ں نے اپنی برق رفتاری اور کام کرنے کے بے مثال جذبے سے چینی عوام کو بے حد متاثر کیا جس کے نتیجے میں چینی عوام نے شنگن سپیڈ کی جگہ ’’پنجاب سپیڈ ‘‘ کی اصطلاح وضع کی . محمد
جاری ہے ..شہباز شریف نے چینی حکومت اور متعلقہ کمپنیوں کیساتھ مذاکرات میں پیش پیش رہ کر سی پیک کے منصوبے کو شرمندہ تعبیر کرنے میں بھر پور کردار ادا کیا . سی پیک منصوبہ ہمہ جہت تعمیر و ترقی اور روزگار کے بے شمار مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ توانائی کے شعبے میں ہمارا سب سے اہم اور بڑا ممد و معاون ہے . بجلی کی پیداوار اس منصوبے کا اہم ترین حصہ ہے جس پر 33 بلین امریکی ڈالرز کی سرمایہ کاری ہو رہی ہے . اس منصوبے کے تحت بجلی کے پیداواری منصوبوں کیلئے چین کا ایگزم بینک (EXIM BANK) سرمایہ کار کمپنیوں کو انتہائی آسان شرائط پر قرض دے گا جس پر منافع کی شرح 5 سے 6 فیصد تک ہو گی . اس سرمایہ کاری سے پرائیویٹ کمپنیاں بجلی پیدا کرکے کم منافع پر حکومت پاکستان کو دیں گی . منصوبے پر کام کرنے والی کمپنیو ں اور حکومت کے مابین معاہدے کے مطابق مارچ 2018 ء تک سی پیک کے تحت توانائی پیدا کرنے کے منصوبوں سے 10,400 میگا واٹ بجلی پیدا ہونا شروع ہو جائیگی جسے (Early Harvest Project) کا نام دیا گیا ہے . اس ابتدائی بجلی کے بعد سی پیک سے مزید بجلی بھی پیدا ہوگی جو ہمارے نیشنل گرڈ میں شامل ہو کر کئی عشروں سے قوم پر چھائے اندھیروں کو پاٹنے میں ہماری مدد کریگی . اس کے علاوہ پنجاب حکومت اپنے وسائل سے توانائی بحران کے خاتمے سے آگے بڑھ کر مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ جن منصوبو ں پر کام کر رہی ہے وہ بہت تیزی کے ساتھ روبہ عمل ہیں . توانائی پیدا کرنے کے منصوبوں کے اس مختصر ترین اور اجمالی جائزے سے حوصلہ ملتا ہے کہ ہمیں بالآخر وہ قیادت میسر آچکی ہے جو قومی تعمیر نو کو اپنا مقصد بنا کر عوام الناس کی محرومیوں اور مجبوریوں کو ختم کرنے میں لگی ہوئی ہے . قومی تعمیر نو کے اس عمل میں ہماری اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کے ساتھ تعاون کرنے کی بجائے جو کردار ادا کیا وہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں . حکومت کے سامنے امن وامان سمیت بے شمار مسائل کھڑے کئے گئے اور اسلام آباد کی شاہراہ جمہوریت پر دھرنا دینے والوں نے چین کے سربراہ حکومت کے دورہ پاکستان کو موخر کرایا اور قوم کا قیمتی وقت ضائع ہوا ، ورنہ سی پیک سمیت کئی دیگر منصوبے ، جو لیٹ شروع ہو ئے ، وہ بہت پہلے شروع ہو جاتے اور ان کے شروع کرنے اور تکمیل میں جو دیر ہوئی وہ نہ ہوتی اور آج قوم کو لوڈ شیڈنگ کے اس عذاب کا سامنا نہ کرنا پڑتا جو اس وقت اسے درپیش ہے . تاہم خیبر سے کراچی تک کے عوام مسلم لیگ ن کی حکومت بالخصوص خادم اعلی پنجاب کو داد دیتے ہیں کہ انہوں نے اپوزیشن کی رکاوٹوں کے باوجود عملی خدمت کی سیاست سے اپنی توجہ نہیں ہٹائی اور پنجاب ، جو کہ بجلی کی کل پیداوار کا 68 فیصد استعمال کرتا ہے ، میں کل قومی شارٹ فال سے تین سے چار گنا زائد بجلی کی پیداوار کے منصوبے لگا دئیے ہیں . وزیر اعلی پنجاب کے اس ویژن ، کام کی رفتار اور محنت شاقہ کی ایک دنیا قائل ہے مگر خیبر پختونخواہ میں با اختیار ہونے کے باوجود اور تبدیلی کے نعرے لگاتے ہوئے نہ تھکنے والے کے پی کے کے مختار کل عمران خان اور ان کے وزیر اعلی پرویز خٹک نے ایسا ایک بھی منصوبہ نہیں بنایا حالانکہ ان کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں تھی . بہر حال عوام کو مسلم لیگ ن کی حکومت کا مشکور ہونا چائییے کہ اس نے جہاں ہر شعبہ زندگی میں عوام کی آسائش اور آسانی کو یقینی بنانے کیلئے کام کیا ہے وہیں نہ صرف موجودہ لوڈ شیڈنگ کو ختم کرنے بلکہ مستقبل کی بجلی کی ضروریات کو بھی پورا کرنے کا پورا پورا اہتمام کر دیا ہے . قومی تعمیر نو کے اس عمل میں محمد شہباز شریف نے اپنے آپ کو محض پنجاب کا نہیں بلکہ ایک قومی لیڈر ثابت کیا ہے .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں